اچھا بھلا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - خاصا، درست، سالم، بے عیب۔ "اچھا بھلا کاغذ ستیاناس کرتے۔"      ( ١٩٣٤ء، اودھ پنچ، لکھنو، ١٩، ٩:٦ ) ٢ - تندرست، بھلا چنگا۔ "وہ بے کلی جاتی رہی اور وزیر اچھا بھلا ہو گیا لیکن بول نہ سکتا تھا۔"      ( ١٧٤٣ء، تاریخ الحکما، ١٧٢ ) ٣ - صاف صاف، کھلا کھلا، نمایاں۔ "چاند تو اچھا بھلا موجود ہے، اب تمھیں نہ دکھائی دے تو کیا کیا جائے۔"      ( ١٩٥٨ء، مہذب اللغات، ١٤٧:١ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے لفظ 'اَچھا' کے ساتھ 'بَھلا' بطور مترادف تاکید کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ اردو میں ١٧٤٣ء کو "تاریخ الحکما" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خاصا، درست، سالم، بے عیب۔ "اچھا بھلا کاغذ ستیاناس کرتے۔"      ( ١٩٣٤ء، اودھ پنچ، لکھنو، ١٩، ٩:٦ ) ٢ - تندرست، بھلا چنگا۔ "وہ بے کلی جاتی رہی اور وزیر اچھا بھلا ہو گیا لیکن بول نہ سکتا تھا۔"      ( ١٧٤٣ء، تاریخ الحکما، ١٧٢ ) ٣ - صاف صاف، کھلا کھلا، نمایاں۔ "چاند تو اچھا بھلا موجود ہے، اب تمھیں نہ دکھائی دے تو کیا کیا جائے۔"      ( ١٩٥٨ء، مہذب اللغات، ١٤٧:١ )

جنس: مذکر